Intizamat nay siray say sanbhalay jay by Rahat Indor راحت اندوری

 انتظامات نئے سرے سے سنبھالے جائیں

جتنے کم ظرف ہیں محفل سے نکالے جائیں


میرا گھر آگ کی لپٹوں میں چھپا ہے لیکن

جب مزا ہے ترے آنگن میں اجالے جائیں


غم سلامت ہے تو پیتے ہی رہیں گے لیکن

پہلے میخانے کے حالات سنبھالے جائیں


خالی وقتوں میں کہیں بیٹھ کے رولیں یارو

فرصتیں ہیں تو سمندر ہی کھنگالے جائیں


خاک میں یوں نہ ملا ضبط کی توہین نہ کر

یہ وہ آنسو ہیں جو دنیا کو بہا لے جائیں


ہم بھی پیاسے ہیں یہ احساس تو ہو ساقی کو

خالی شیشے ہی ہواؤں میں اچھالے جائیں


آؤ بستی میں نئے دوست بنائیں راحت

آستینوں میں چلو سانپ ہی پالے جائیں

Post a Comment

Previous Post Next Post